تروننت پورم،02؍جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کیرالہ حکومت نے جان لیوا وائرس نپاہ پر آج چوکسی بڑھا دی ہے، یہاں تک کی بالسیری کے ایک اسپتال کے عملے کو احتیاط کے طور پر پر چھٹی پر جانے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس وائرس سے کوجھی کوڈ اور ملپرم ضلع میں 16 لوگوں جانیں جا چکی ہیں۔ پبلک سروس کمیشن نے بھی اپنے تمام تحریری اور آن لائن امتحانات 16 جون تک ملتوی کر دی ہیں۔ نئی تاریخوں کا اعلانات بعد میں کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں اضلاع میں اس ماہ ہونے والی تمام میٹنگیں ملتوی کر دی گئیں ہیں۔ لوگوں سے انتہائی محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ آج اس کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن وائرس کی علامات والے چھ افراد کو کوجھی کوڈ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔کووجھی کوڈ میڈیکل کالج میں ایک کنٹرول پینل بنایا گیا ہے جو کہ لوگوں سے رابطہ کرکے ان کی صحت کی معلومات لے گا۔نپاہ وائرس سے دو لوگوں کی موت کے بعد بالسیری واقع ایک اسپتال میں چار ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت کئی ملازمین کو چھٹی پر جانے کے لئے کہا گیا ہے۔ وزیر صحت کے کے شیلجا نے کہا کہ کوجھی کوڈ اور ملپرم ضلع میں وائرس کے دوسرے مرحلے میں پہنچنے کے خدشات شہ کے پیش نظر حکومت نے احتیاطی اقدامات کئے ہیں اور لوگوں سے محتاط رہنے کے لئے کہاہے۔ وزیر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سینٹر فار ڈیسیز کنٹرول سے ماہرین کی ٹیم صورتحال کا جائزہ لینے کر رہی ہے اور احتیاطی قدم اٹھا رہی ہے۔ کیرالہ کے شمالی اضلاع میں اس وائرس سے اب تک 16 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ افسر نے بتایا کہ اسپتال کے آپریشن کے لئے اختیاری اہتمام کیا گیا ہے۔ ریسین (25) کا انتقال کل نپاہ وائرس کی وجہ سے ہوا۔ اس کا علاج پہلے بالسیری اسپتال میں چل رہا تھا۔ اس وقت نپاہ وائرس کی زد میں آئے نکھل نامی شخص کا علاج وہاں جاری تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ کوجھی کوڈ ضلع کلکٹر یو وی جوس نپاہ وائرس کے پیش نظر ضلع کی موجودہ صورت حال کی ایک رپورٹ کیرالہ ہائی کورٹ میں دائر کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ مکمل ہو گئی ہے۔نپاہ کی وجہ کوجھی کوڈ ضلعی عدالت کے احاطے کے ایک سپرنٹنڈنٹ کی موت کی وجہ سے بار یونین نے کلکٹر سے کچھ وقت کے لئے ضلعی عدالت کو بند کرنے کی اپیل کی ہے۔کوجھی کوڈ اور ملپرم اضلاع میں نپاہ وائرس کی وجہ احتیاطی طور پر اسکول نہیں کھلے اور وہ پانچ جون سے شروع ہوں گے۔